2 اگست 2011 - 19:30

آیت اللہ العظمی صافی گلپائگانی نے اپنے مذمتی میں کہا ہے: میں تاجيكستان پر مسلط حکام کو خبردار کرتا ہوں کہ جس راہ پر وہ گامزن ہوگئے ہیں وہ شکست کی جانب جارہا ہے؛ انہیں اس گستاخی پر تاجیک عوام اور اور مسلمانان عالم سے معافی مانگنی چاہئے / بحرین کے دلیر اور غیور عوام جو عظیم اسلامی امّہ اور ڈیڑھ ارب مسلمانوں کا جزء ہیں، سوویت روس کے خاتمے کے بعد استقلال اور اسلامی تشخص کی طرف لوٹ چکے ہیں اور اپنی دیرینہ اسلامی روایات کے احیاء کا اہتمام و اعلان کرچکے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی صافی گلپائگانی نے تاجیکستان میں اسلام کے منافی قوانین کی منظوری پر مذمتی بیان جاری کیا ہے جس کا متن درج ذیل ہے:

بسم الله الرحمن الرحيمالاسلام يعلو و لايعلي عليه

اللہ اکبر کے مہینے، اللہ کی برکت و رحمت کے مہینے "ماہ مبارک رمضان" کے حلول پر امت اسلامی اور دوست و ہم زبان اور ہم تہذیب ملک تاجیکستان کے روزہ دار مؤمنین کو ہدیۂ تبریک و تہنیت پیش کرتا ہوں۔ ایسے حال میں کہ دنیا کے مسلمانوں کی بیداری اور تحریکوں کا سلسلہ اپنے عروج پر ہے اور یہ تحریکیں مسلمانوں کے غصب شدہ حقوق کو واپس لینے کے لئے روز بروز وسیع سے وسیع تر ہوتی جا رہی ہیں ـ اور مغرب سے وابستہ حکومتیں جو بظاہر طاقتور بھی ہیں یا تو زوال پذیر ہوچکی ہیں یا پھر زوال پذیر ہو رہی ہیں اور اسلامی مجد و عظمت کی طرف واپسی کا سلسلہ آگے کی جانب گامزن ہے ـ باعث حیرت ہے کہ اسلامی دنیا کے قلب میں ایسے علاقے میں جہاں کے بزرگ اور امجاد و مفاخر کا ماضی سب سے پرانا ہے، لوگوں کے ارادے اور خواہش کے برخلاف، مٹھی بھر سوویت باقیات نہایت بھونڈے انداز میں اسلام کے خلاف لڑتے ہوئے اور استعمار کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنی قوم کی دیرینہ عظمت و عزت اور استقلال و شرف کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں جبکہ ان کا یہ عمل تمام ملتوں اور امتوں اور تمام نظامات و قوانین کی رو سے قابل مذمت ہے۔ تاجيكستان کی دلیر اور سربلند قوم ـ جو عظیم اسلامی وطن کے اس چھوٹے سے علاقے میں بستی ہے اور ڈیڑھ ارب مسلمانوں کا تہذیبی اور دینی جزء شمار ہوتی ہے ـ نے بھی سابق سوویت روس کی سامراجیت کے خاتمے کے بعد اپنے اسلامی استقلال اور تشخص کی جانب لوٹ چکی ہے اور اپنے افتخار آمیز روایات کے احیاء کا اہتمام اور اعلان کرچکی ہے۔افسوس کا مقام ہے کہ تاجيكستان کے ضعیف النفس حکام اور سوویت روس کے باقیات سازشوں کے سہارے تاجيك قوم کی ترقی اور مکمل استقلال و خودمختاری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ یہ مٹھی بھر افراد ـ اس بظاہر چھوٹے مگر درحقیقت دیرینہ تہذیبی افتخارات کے امین ملک ـ میں اسلام کے خاتمے کی بساط بچھائے ہوئے ہیں اور ملک کی 96 فیصد مسلم آبادی پر شدید دباؤ قائم کرکے اسکولوں اور جامعات میں حجاب پر پابندی اور اس سے بھی زیادہ عجیب "بچوں پر محمد اور عبداللہ جیسے بہترین نام رکھنے پر پابندی" کے قوانین منظور کرکے، اسلامی معاشروں کے پیکر کے جزء عزیز مسلم ملک تاجیکستان کا اسلامی تشخص سلب کرنے کی پالیسی پر کاربند ہیں، نیز انھوں نے ماہ مبارک رمضان کی آمد آمد پر نوجوانوں کے نماز کے لئے مساجد جانے پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف تاجیکستان کی عزیز ملت کی بے حرمتی کے زمرے میں آتے ہیں بلکہ یہ پوری دنیا کے مسلمانوں کی توہین بھی ہے۔ میں تاجيكستان پر مسلط حکام کو خبردار کرتا ہوں کہ جس راہ پر وہ گامزن ہوگئے ہیں وہ شکست کی جانب جارہا ہے؛ انہیں اس گستاخی پر تاجیک عوام اور اور مسلمانان عالم سے معافی مانگنی چاہئے۔ اسلامی ممالک اور اسلامی کانفرنس تنظیم سے توقع یہ ہے کہ اس اسلام مخالف منصوبے کی مذمت کریں اور تاجیکستان میں اسلام مخالف منصوبوں کے سلسلے میں اس ملک کے حکام کو خبردار کریں۔

و السّلام على عبادالله الصّالحيناول ماه مبارك رمضان 1432 ـ لطف‌الله صافي»

یاد رہے کہ تاجیکستان کے صدر امامعلی رحمانوف نے حال ہی میں اسلام کے خاتمے کی غرض سے عجیب و غریب اقدامات کئے ہیں جن میں درج ذیل اقدامات خاص طور پر قابل ذکر ہیں:1۔ 18 سال سے کم افراد کی مساجد میں حاضری پر پابندی2۔ باضابطہ رجسٹریشن نہ ہونے کے بہانے کثیر تعداد میں مساجد کی بندش3۔ بچوں پر محمد اور عبداللہ جیسے نام رکھتے پر پابندی4۔ 40 سال سے کم افراد کی داڑھی رکھتے پر پابندینیز رحمانوف حکومت نے والدین اور گھرانوں سے کہا ہے کہ وہ اسلامی ممالک میں زیر تعلیم بچوں کو فوری طور پر واپس بلائیں کیونکہ ان ممالک میں ان کے بچوں کو دہشت گرد بنایا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ منحرف بہائی فرقہ تاجیکستان میں بہت زیادہ اثر و رسوخ رکھتا ہے اور مبصرین کا خیال ہے کہ رحمانوف حکومت بہائیوں کے زیر اثر اسلام کے خلاف لڑ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

/110